سادہ دل
معنی
١ - بھولا بھالا، سیدھا سادہ، سادہ لوح، صاف دل، بے کینہ۔ "غزل کے عاشقان سادہ دل یہ بات بھول گئے ہیں کہ اردو شاعری کی عظمت صرف غزل کی مرہون منت نہیں ہے۔" ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٩ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'سادہ' کے ساتھ 'دل' لگانے سے مرکب 'سادہ دل' بنا۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بھولا بھالا، سیدھا سادہ، سادہ لوح، صاف دل، بے کینہ۔ "غزل کے عاشقان سادہ دل یہ بات بھول گئے ہیں کہ اردو شاعری کی عظمت صرف غزل کی مرہون منت نہیں ہے۔" ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٩ )